اتوار 5 جولائی 2026 - 12:18
تشییعِ رہبرِ شہیدؒ؛ قرآنی پیغام کا حسین امتزاج: جب ہر وفد کے لیے ایک الگ آیت منتخب کی گئی

حوزہ/قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ حالاتِ حاضرہ کی تفسیر، امت کی رہنمائی اور تاریخ کے اہم موڑ پر الٰہی پیغام پہنچانے کے لیے نازل ہوا ہے۔ شاید یہی حقیقت امامِ شہید کی تاریخی تشییع میں سب سے نمایاں انداز میں جلوہ گر ہوئی، جہاں دنیا کے مختلف ممالک، مزاحمتی تحریکوں، دینی شخصیات اور شہداء کے اہلِ خانہ کی آمد پر ہر وفد کے استقبال کے لیے ایسی قرآنی آیات منتخب کی گئیں جو ان کے حالات، ذمہ داریوں اور تاریخی کردار سے گہری معنوی مناسبت رکھتی تھیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی:قرآنِ کریم صرف تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ حالات کی تفسیر، امت کی رہنمائی اور تاریخ کے اہم موڑ پر الٰہی پیغام پہنچانے کے لیے نازل ہوا ہے۔ شاید یہی حقیقت امامِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی تاریخی تشییع میں سب سے نمایاں انداز میں جلوہ گر ہوئی، جہاں دنیا کے مختلف ممالک، مزاحمتی تحریکوں، دینی شخصیات اور شہداء کے اہلِ خانہ کی آمد پر ہر وفد کے استقبال کے لیے ایسی قرآنی آیات منتخب کی گئیں جو ان کے حالات، ذمہ داریوں اور تاریخی کردار سے گہری معنوی مناسبت رکھتی تھیں۔

یہ انتخاب محض حسنِ تلاوت یا اتفاق نہیں تھا، بلکہ ایک بامقصد قرآنی پیغام رسانی کا مظہر تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس عظیم اجتماع میں تعزیتی کلمات سے پہلے خود قرآنِ مجید مختلف وفود سے ان کی زبانِ حال کے مطابق گفتگو کر رہا ہے۔

شہدائے مقاومت کے خانوادے کی آمد پر غم نہیں، استقامت کا پیغام دیا گیا

جب شہدائے مقاومت کے اہلِ خانہ تشییعِ رہبرِ انقلاب کے تعزیتی پروگرام میں شریک ہوئے تو قرآنِ کریم کی یہ آیات تلاوت کی گئیں:

«﴿وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ... وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ۝ وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ﴾»

ترجمہ: "کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو، اگر تم مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہو گے... اللہ ایمان والوں کو نکھارنا اور ظالموں کو مٹا دینا چاہتا ہے۔"

یہ وہ خاندان تھے جنہوں نے اپنی زندگی کے سب سے قیمتی افراد راہِ خدا میں قربان کیے۔ ایسے موقع پر قرآن نے انہیں صرف صبر کی تلقین نہیں کی بلکہ انہیں یہ یقین بھی دلایا کہ آزمائش اہلِ ایمان کی شکست نہیں، بلکہ ان کی تطہیر اور سربلندی کا ذریعہ ہے۔ اس طرح یہ آیات شہداء کے خانوادوں کے لیے غم سے زیادہ استقامت، امید اور نصرتِ الٰہی کا پیغام بن گئیں۔

افغانستانی وفد کی آمد؛ شہداء کی حیاتِ جاوداں

افغانستانی وفد کی آمد پر قرآنِ کریم کی یہ آیات تلاوت کی گئیں:

«﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۖ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ۝ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ...﴾»

ترجمہ: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے اور وہ اللہ کے عطا کردہ فضل پر خوش ہیں۔"

یہ آیات شہادت کے قرآنی تصور کا سب سے جامع بیان ہیں۔ یہاں موت کا ذکر نہیں بلکہ زندگی کی بشارت ہے، جدائی کا نہیں، بلکہ قربِ الٰہی کا ذکر ہے۔ گویا اس وفد کو یہ یاد دلایا گیا کہ راہِ حق میں دی جانے والی قربانیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ تاریخ اور امت کی زندگی کا سرمایہ بن جاتی ہیں۔

علمائے فلسطین کی آمد؛ مسجدِ اقصیٰ کا ابدی پیغام

جب فلسطینی علماء تشییعِ جنازہ کے اجتماع میں شریک ہوئے تو سورۂ اسراء کی پہلی آیت تلاوت کی گئی:

«﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾»

ترجمہ: "پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی، جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنایا۔"

یہ انتخاب اس حقیقت کا اعلان تھا کہ فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ قرآنِ مجید سے وابستہ ایک مقدس امانت ہیں۔ گویا فلسطینی علماء کے استقبال میں قرآن نے خود مسجدِ اقصیٰ کی قرآنی حیثیت اور امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری کو یاد دلایا۔

پاکستانی عسکری اور سیاسی وفد کی آمد؛ صداقت، اعتماد اور نصرتِ الٰہی کا پیغام

پاکستانی وفد کی آمد پر قرآنِ کریم کی یہ مبارک آیت تلاوت کی گئی:

«﴿وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا﴾»

ترجمہ: "اور کہہ دو! اے میرے رب! مجھے سچائی کے ساتھ داخل فرما اور سچائی کے ساتھ نکال، اور اپنی جانب سے مجھے ایسی قوت عطا فرما جو میری مددگار ہو۔"

یہ آیت اپنے اندر صداقت، اخلاص، خیرسگالی، حسنِ انجام اور نصرتِ الٰہی کی جامع دعا سموئے ہوئے ہے۔ پاکستانی وفد کے استقبال میں اس کی تلاوت اس امر کی علامت تھی کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں، بلکہ مشترکہ دینی اقدار، باہمی اعتماد اور خیرخواہی پر استوار ہیں۔ ساتھ ہی یہ آیت ہر اس اجتماعی جدوجہد کے لیے دعا بھی ہے جو حق، عدل اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کے لیے انجام دی جائے۔

سعودی عرب کے وفد کی آمد؛ حق و باطل کے معرکے میں نصرتِ الٰہی کی یاددہانی

سعودی عرب کے وفد کی آمد پر سورۂ آلِ عمران کی یہ آیت تلاوت کی گئی:

«﴿قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَىٰ كَافِرَةٌ... وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَن يَشَاءُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّأُولِي الْأَبْصَارِ﴾»

ترجمہ: "تمہارے لیے ان دو گروہوں میں ایک بڑی نشانی تھی جو آمنے سامنے ہوئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا منکر تھا... اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی نصرت سے تائید فرماتا ہے۔ بے شک اس میں اہلِ بصیرت کے لیے بڑی عبرت ہے۔"

غزوۂ بدر کی یاد تازہ کرنے والی یہ آیت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں فیصلہ ہمیشہ ظاہری قوت سے نہیں بلکہ نصرتِ الٰہی سے ہوتا ہے۔ سعودی وفد کے استقبال میں اس آیت کی تلاوت امتِ مسلمہ کو اتحاد، استقامت اور اللہ پر کامل اعتماد کا پیغام دیتی محسوس ہوئی۔

قطری وفد کی آمد؛ فتحِ الٰہی کی بشارت

قطری وفد کی آمد پر سورۂ فتح کی ابتدائی آیات تلاوت کی گئیں:

«﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا ۝ لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ... وَيَنصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا﴾»

ترجمہ: "بے شک ہم نے آپ کو کھلی فتح عطا کی... اور اللہ آپ کو زبردست مدد عطا فرمائے گا۔"

یہ آیات فتح، نصرتِ الٰہی اور روشن مستقبل کی نوید ہیں۔ قطری وفد کے استقبال میں ان کی تلاوت گویا اس یقین کا اظہار تھی کہ مشکلات اور آزمائشوں کے بعد اللہ کی مدد اور کامیابی اہلِ حق کا مقدر بنتی ہے۔

ہندوستانی حکومت کے خصوصی وفد کی آمد؛ خوف کے مقابل ایمان اور توکل

ہندوستانی وفد کی آمد پر سورۂ آلِ عمران کی یہ آیات تلاوت کی گئیں:

«﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾»

ترجمہ: "لوگوں نے ان سے کہا کہ تمہارے خلاف لوگ جمع ہو گئے ہیں، ان سے ڈرو، مگر اس بات نے ان کے ایمان میں اضافہ کر دیا اور انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔"

یہ آیات ایمان، توکل اور ثابت قدمی کا عظیم درس دیتی ہیں۔ بھارتی وفد کے استقبال میں ان کی تلاوت اس حقیقت کی یاددہانی تھی کہ اہلِ ایمان کا سب سے بڑا سہارا اللہ پر اعتماد ہے، اور خوف کے ماحول میں بھی یہی یقین انہیں استقامت عطا کرتا ہے۔

پاکستانی وفد (چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی) کی آمد؛ تقویٰ، وسیلہ اور کامیابی کا راستہ

سورۂ مائدہ کی آیت 35 تلاوت کی گئی:

«﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾»

ترجمہ:"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو، اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔"

یہ آیت ایمان، تقویٰ، اللہ سے قرب، وسیلۂ الٰہی اور راہِ حق میں جدوجہد کے جامع پیغام پر مشتمل ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی کے استقبال میں اس کی تلاوت گویا اس حقیقت کی یاددہانی تھی کہ امت کی حقیقی کامیابی محض سیاسی تدابیر سے نہیں بلکہ تقویٰ، الٰہی وابستگی اور حق کے لیے مسلسل جدوجہد سے وابستہ ہے۔

اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے قائدین کی آمد؛ شہادت کے راستے کا تسلسل

حماس کے قائدین کے استقبال میں دوبارہ شہداء کی حیاتِ جاوداں سے متعلق آیت تلاوت کی گئی:

«﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۖ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾»

ترجمہ: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔"

یہ انتخاب اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مزاحمت کا سفر شہداء کے خون سے زندہ رہتا ہے۔ حماس کی قیادت، جس نے مسلسل قربانیوں اور شہادتوں کا سامنا کیا، اس آیت کے ذریعے یہ پیغام پا رہی تھی کہ شہداء کا قافلہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ ہر قربانی نئی استقامت اور نئی زندگی کو جنم دیتی ہے۔

قرآن؛ اس تاریخی تشییع کا خاموش خطیب

اگر ان تمام آیات کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک حیرت انگیز قرآنی نظم سامنے آتی ہے۔ کہیں صبر و استقامت کا درس ہے، کہیں شہداء کی ابدی حیات کی بشارت، کہیں مسجدِ اقصیٰ کی قرآنی مرکزیت کا اعلان، اور کہیں صداقت، اعتماد اور نصرتِ الٰہی کی دعا۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس عظیم اجتماع میں صرف انسان نہیں بول رہے تھے، بلکہ قرآنِ مجید خود حالات کی تشریح کر رہا تھا۔ ہر وفد کے لیے منتخب آیت اس کے ماضی کی ترجمان، حال کی رہنما اور مستقبل کے لیے ایک الٰہی پیغام تھی۔ یہی اس تاریخی تشییع کا وہ منفرد پہلو ہے جس نے اسے ایک معمول کی تعزیتی تقریب سے بلند کرکے ایک فکری، تہذیبی اور قرآنی اجتماع میں تبدیل کر دیا۔

اختتامیہ

امامِ شہیدؒ کی تشییع کا یہ پہلو اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ قرآنِ کریم صرف عبادات کی کتاب نہیں بلکہ امت کی اجتماعی زندگی، سیاسی بصیرت، تہذیبی شناخت اور تاریخی جدوجہد کا زندہ منشور بھی ہے۔ مختلف وفود کے لیے مختلف آیات کا انتخاب اس امر کی علامت تھا کہ ہر قوم، ہر تحریک اور ہر ذمہ داری کے لیے قرآن کے پاس ایک زندہ پیغام موجود ہے۔

اسی لیے اس تاریخی تشییع کا سب سے منفرد منظر صرف لاکھوں انسانوں کا اجتماع نہیں تھا، بلکہ وہ لمحہ تھا جب مختلف وفود نے اپنی ذمہ داری، اپنی جدوجہد اور اپنے مستقبل کا پیغام براہِ راست آیاتِ الٰہی سے سنا۔ گویا اس دن قرآن صرف پڑھا نہیں جا رہا تھا، بلکہ امت سے ہم کلام تھا؛ اور شاید یہی اس تاریخی تشییع کا سب سے گہرا، بامعنی اور لازوال پیغام ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha